نئی دہلی،18/ستمبر(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) این جی ٹی نے دہلی حکومت کی طرف سے نومبر میں نافذکئے جانے والے طاق۔ جفت کے فارمولے کے خلاف درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اس معاملے میں این جی ٹی کی پرنسپل بنچ نے سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس گوئل نے گوروبنسل سے پوچھا کہ آخر کون سے قوانین کی بنیاد پر یہ درخواست کو دائر کیا گیا ہے۔بتا دیں کہ گوروکمار بنسل کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) نے دہلی کی ہوا کے معیار پر طاق۔جفت فارمولے کے اثرات اندازہ لگا یا اور یہ پایا کہ اس کے نفاذ کی مدت میں شہر کی ہوا کامعیار اس کے نافذ نہ ہونے کی مدت کے مقابلے میں اور خراب ہو گئی۔درخواست میں کہا گیا تھا جب سی پی سی بی اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) جیسے ملک کے اعلیٰ ماحولیاتی آلودگی کنٹرول بورڈ نے ایک آواز میں کہا ہے کہ طاق۔ جفت فارمولہ 2016 میں فضائی آلودگی کے مسئلے پر روک لگانے میں ناکام رہا ایسے میں دیگر ممالک کے لوگوں کی طرف سے کئے گئے محض ایک مطالعہ کی بنیاد پر طاق۔جفت فارمولہ کو دہلی حکومت کا نافذ کرنا نہ صرف ناخوشگوار ہے بلکہ یہ سی پی سی بی اور ڈی پی سی سی جیسے اداروں کی شبیہہ کو کم کرے گا۔ دائر درخواست پر کورٹ کی طرف سے سماعت سے انکار کے بعد گوروبنسل نے اپنی درخواست واپس لے لی ہے۔بتا دیں کہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کچھ دن پہلے پریس کانفرنس کے ذریعہ بتایا تھا کہ آلودگی روکنے کے لئے 4 نومبر سے 15 نومبر تک دہلی میں طاق۔جفت فارمولہ نافذ کیا جائے گا۔اس کے علاوہ دیوالی کے دوران پٹاکھے نہ چلانے کے لئے بھی درخواست کی ہے۔دہلی حکومت N-95ماسک خرید کرلوگوں میں تقسیم کرے گی جس سے لوگ آلودگی سے بچ سکیں۔اب 50-60 لاکھ ماسک خریدنے کا ارادہ رکھتے۔سی ایم کیجریوال نے آگے بتایا تھا کہ چھوٹی دیوالی کے دن لیزر شو کرائے گی، جس کی مفت انٹری ہوگی۔دہلی حکومت آلودگی کے روک تھام کے لئے دوسرے ذرائع بھی اپنائے گی۔